پیر 9 نومبر 2026 - 01:07
لکھنؤ میں سید العلماء آیت اللہ سید علی نقی نقوی کی علمی وراثت کے فروغ کے عزم کے ساتھ سید العلماء میڈیا سینٹر کا افتتاح

حوزہ/ لکھنؤ کے امام باڑہ سبطین آباد میں سید العلماء آیت اللہ العظمیٰ سید علی نقی نقوی کی علمی و فکری میراث کو فروغ دینے کے مقصد سے سید العلماء میڈیا سینٹر (ایس ایم سی) کا افتتاح مولانا سید کلب جواد نقوی نے ایک کتاب کی رونمائی کے ذریعے کیا۔ تقریب میں علمائے کرام، اہل قلم اور شہر کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ/ برصغیر ہند و پاک کے ممتاز علمی و دینی شخصیات میں شمار ہونے والے سید العلماء آیت اللہ العظمیٰ سید علی نقی نقوی نے 1988ء میں اپنی وفات تک 250 سے زائد کتابیں تصنیف کیں، جو اردو، عربی، فارسی، انگریزی، ہندی اور دیگر کئی زبانوں میں شائع ہوئیں۔ ان کی علمی و فکری میراث کو محفوظ رکھنے اور ان کے علمی مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے لکھنؤ کے امام باڑہ سبطین آباد میں سید العلماء میڈیا سینٹر (ایس ایم سی) کا افتتاح مولانا سید کلب جواد نقوی نے دیگر علمائے کرام اور شہر کی ممتاز شخصیات کی موجودگی میں ایک کتاب کی رونمائی کے ذریعے کیا۔

لکھنؤ میں سید العلماء آیت اللہ سید علی نقی نقوی کی علمی وراثت کے فروغ کے عزم کے ساتھ سید العلماء میڈیا سینٹر کا افتتاح

افتتاحی تقریب میں مولانا رضا حیدر، مولانا اصطفیٰ رضا، جناب امیر حیدر، مولانا صابر علی عمرانی، جناب عادل فراز، جناب روشن تقی، جناب ندیم آغا، جناب امانت حسین نقوی، جناب ماہ رخ مرزا اور جناب امان عباس سمیت لکھنؤ کی متعدد ممتاز شخصیات اور آیت اللہ سید علی نقی نقوی کے عقیدت مندوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر یادگار حسینی کے سیکریٹری جنرل سید عزیز حیدر نے بتایا کہ ہم نے مناسب سمجھا کہ سید العلماء میڈیا سینٹر کا افتتاح ربن کاٹ کر نہیں، شمع جلا کر نہیں، بلکہ کتاب کے اجراء سے کیا جائے کیوں کہ سید العلماء کی وراثت علم، کتابوں اور تقاریر میں ہی بستی ہے۔انھوں بتایا کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں کتابوں کی وراثت کو کیسے آگے بڑھایا جائے یہ سید العلماء میڈیا سینٹر کی کاوشوں کا اہم مرکز رہے گا۔ اس کے علاوہ سید العلماء میڈیا سینٹر میڈیا میں ہمارے احباب کی شرکت سے میڈیا کورسز اور میڈیا میں کام کر رہے افراد کی فلاح و بہبود کے لئے مختلف پروگرام شروع کرنے جا رہا ہے، جس کا اعلان جلد کیا جائے گا۔اس سلسلے میں کچھ سرگرم میڈیا تنظیموں سے بھی ٹائی اپ کیا جا رہاہے۔

لکھنؤ میں سید العلماء آیت اللہ سید علی نقی نقوی کی علمی وراثت کے فروغ کے عزم کے ساتھ سید العلماء میڈیا سینٹر کا افتتاح

سید العلماء میڈیا سینٹر کے کنوینر ڈاکٹر سید امانت حسین نقوی نے تقریب میں یادگار حسینی کے قیام (1939ء) سے اب تک انجام دیے گئے مختلف اہم اور قابلِ ذکر کارناموں پر ایک مضمون پیش کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سید العلماء میڈیا سینٹر کے صدر مولانا سید کلب جواد نقوی نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام کی شخصیت ایسی عظیم اور عالمگیر ہے کہ ہر مذہب و ملت کے لوگ ان سے عقیدت رکھتے ہیں۔ یادگار حسینی کی ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ تمام مذاہب اور مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد تک امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے حقیقی مقصد اور پیغام کو پہنچائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا کام کوشش کرنا ہے، جبکہ نتائج کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔

مولانا رضا حیدر زیدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ 1939ء میں اس تنظیم کے قیام کا ایک اہم مقصد پیغامِ امام حسین علیہ السلام کو غیر مسلموں تک پہنچانا تھا۔ انہوں نے امام علیہ السلام کی ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر لوگ ائمہ علیہم السلام کے کلام کی خوب صورتی اور اس کے حسن سے آگاہ ہو جائیں تو ہماری پیروی کرنے لگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ پیغامِ اہل بیت علیہم السلام کو ہندوستان کے تمام عوام تک پہنچانے کے لیے بھرپور کوشش کریں۔

مولانا اصطفیٰ رضا نے اپنے خطاب میں کہا کہ جوش ملیح آبادی اور نیاز فتح پوری جیسی ممتاز ادبی شخصیات بھی سید العلماء سے متاثر تھیں۔ نیاز فتح پوری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سید العلماء کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ تہذیب اور ادب کا دامن کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔

جناب امیر حیدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ جھوٹ کا ساتھ دینے کے بجائے سچ پر قائم رہتے ہوئے ہار جانا بہتر ہے۔ تقریب میں شریک سید العلماء کے عقیدت مندوں اور اہل علم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب اتنے پڑھے لکھے اور صاحبِ علم افراد ایک ہی چھت کے نیچے جمع ہوں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ محفل یقیناً سید العلماء سے وابستہ ہے۔

لکھنؤ میں سید العلماء آیت اللہ سید علی نقی نقوی کی علمی وراثت کے فروغ کے عزم کے ساتھ سید العلماء میڈیا سینٹر کا افتتاح

مولانا صابر علی عمرانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جن لوگوں نے رضائے پروردگار کے لیے کام کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے نام کو بلندی عطا فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ سید العلماء نے عصر حاضر کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے علمی و تحقیقی کام انجام دیے اور متعدد کتابیں تصنیف کیں۔ انہوں نے مزید مطالعے اور تحقیق کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ وہ سید العلماء کی تحریروں کا مطالعہ کریں اور ان کی تقاریر بھی سنیں۔

انہوں نے کہا کہ سید العلماء کی ایک منفرد خصوصیت یہ تھی کہ ان کی تقریر کو تحریر اور تحریر کو تقریر کی صورت میں پیش کیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میڈیا کا دور ہے، لہٰذا میڈیا کے مؤثر استعمال کے ذریعے سید العلماء کی علمی و تصنیفی خدمات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔

لکھنؤ میں سید العلماء آیت اللہ سید علی نقی نقوی کی علمی وراثت کے فروغ کے عزم کے ساتھ سید العلماء میڈیا سینٹر کا افتتاح

واضح رہے کہ سید العلماء میڈیا سینٹر کے افتتاحی پروگرام کے موقع پر کتاب ’’آیت اللہ شیخ محمد علی العمری: سیرت و کردار کے آئینے میں‘‘ کی بھی باقاعدہ رونمائی کی گئی۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ مولانا صابر علی عمرانی نے کیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha